Dirty PDF – Our new platform where you can download stories in PDF format, read them online, and enjoy episode-wise reading. Visit Now

Dehaati Larki - Ep 38


دیہاتی لڑکی 

قسط نمبر 38

مہوش کو یہ روشنیوں بھری رنگین دنیا اچھی لگ رہی تھی اور پارک میں لگی ہر چیز کو انجوائے کرنا چاہتی تھی لیکن سائقہ نے اسے ڈسٹرب کر رکھا تھا میں نے دو بار کوشش کی کہ میں سائقہ کو چپ کرا دوں لیکن اس کے ہنستے چہرے کو دیکھ کر میں پہلے کی طرح پانی ہو گیا تھا چنچل سی سائقہ میں دل کی گہرائیوں میں اتر جانے والی پہلی لڑکی تھی گو کہ میں ہر لڑکی کی قدر کرنے والا تھا شاکرہ میری وائف تھی اور وہ مجھ سے بےانتہا پیار کرتی تھی اور اس وقت مجھے خود شادی کا پیغام بھیجا جب اس کے گھر کے باہر رشتوں کی لگی تھی ۔۔۔ جس کی تفصیل میں پہلی قسطوں میں بتا چکا ۔۔۔سائقہ نے الیکٹرانک کار کی پہلے کی طرح چھ ٹکٹیں لے لیں اور میں مہوش کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ لگے بڑے وہیل جھولے کی طرف بڑھ گیا سائقہ نیچے گاڑی چلے رہی تھی اور وہاں لڑکوں کا رش بڑھ گیا تھا جو بار بار اپنے آگے کجلی کر رہے تھے اور سیٹیاں بجنا شروع ہو گئیں تھی ۔۔۔ جھولا چلنے لگا تھا اور اس کی سپیڈ مہوش کو میرے قریب کر گئی وہ چیخیں مارتی میری گود میں اوندھے منہ لیٹ گئی تھی اور میں نے اس کو ہپس سے پکڑ لیا تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے بوبز کو پکڑ کر نیچے گرنے سے محفوظ بنا لیا تھا جھولے کی سپیڈ کم ہونے لگی اور اس کے اوپر جانے کے وقت میں اسے کسنگ کر لیتا تھا ۔۔۔۔ مہوش دھڑکتے دل اور مسکراتے چہرے سے دیکھتے ہوئے اکھڑی سانسوں سے میرے ہاتھ بوبز سے ہٹاتے ہوئے بولی۔۔ آپ کو موقعے سے فائدہ اٹھائے کا ہنر خوب آتا ہے ۔۔۔ میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کسنگ کرتے ہوئے بولا اس موقع کا انتظار تو بہت پہلے سے کر رہا تھا ۔۔۔۔ جھٹ سے بولی موقع آدھا ضائع ہو جائے گا ۔۔۔ مجھے بھی مہوش کہتے ہیں ۔۔۔ میں نے ہنس کر اس کا ہاتھ پکڑ کر جھولے سے اتر کر الیکٹرانک کاروں کے گرد لگی گرل کے پاس ٹھہر گئے سائقہ نے الیکٹرانک کاروں کی مارکیٹ بڑھا دی تھی اور اب جہاں ٹکٹ ملنا مشکل ہو گئے تھے ۔۔۔ ایک منچلے نوجوان نے اپنی کار کر سپیڈ میں سائقہ کی کار کو ٹکر ماری ۔۔۔۔اور پھر میری آواز پر اس نوجوان کا سائقہ۔کی طرف بڑھتا ہاتھ لرز گیا تھا اور مجھے دیکھ کر کچھ دیر کے لئے کار چلانا بھول گیا تھا ۔۔۔۔ گرل کے پاس لگے لڑکوں کی توجہ میری طرف ہو گئی اور سیٹیاں بند ہو چکی تھی میں کار چلاتے اس نوجوان کو غور سے دیکھ رہا تھا اور پھر وہ وقت سے پہلے کاا روک کر دوسری طرف سے گرل پھلانگ کر بھاگ گیا تھا ۔۔۔۔۔مجھے سائقہ سے ملے دوماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا تھا اور اس کے ساتھ مہوش کا۔لمس پا کر بہت بےچین ہو گیا تھا میں چاہتا تھا کہ جلد گھر پہنچ جائیں ۔۔ کچھ کھانے پینے کے بعد ہم روانہ ہونے لگے تھے سائقہ میرے بیٹھتے ہی پارکنگ میں کھڑے دیگر لوگوں کے سامنے میری گود میں بیٹھتے ہوئے یہ کہتے ہوئے گاڑی کا گیٹ بند۔کرنے لگی ۔۔۔۔ کہ شرم کرو شرم کرو۔۔۔۔مہوش فرنٹ سیٹ پر اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپاتے ہنستے ہوئے بیٹھ گئی میں نے گاڑی کو ریورس کر کے پارکنگ سے نکالا اور کنٹرول سائقہ کے حوالے کر دیا میں نے مہوش کی ران کو اپنے باتھ میں بھر لیا اور اسے دبانے لگا ۔۔۔۔ سائقہ بولی مہوش میں نے کہا تھا نا کہ مانوں بہت اچھے ہیں ابھی گھر میں جا کر آپ کو ٹانگیں دبا دیں گے ۔۔۔ مہوش بولی میں نہیں دبوانی ٹانگیں ۔۔۔۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی ۔۔۔ سائقہ بولی ۔۔۔ اچھا مانوں ٹانگیں نہ دبانا کچھ اور دبا دینا ۔۔۔۔ میں نے سائقہ کے ہپس کی سائیڈ پر تھپڑ مارا اور بولا تم ڈرائیونگ پر توجہ دو۔۔۔ وہ اپنے ہپس کو آگے پیچھے ہلاتے ہوئے بولی ادھر کرنگ رہا ہے تو توجہ ادھر بھی آ جاتی ۔۔اور پھر ہنسنے لگی ۔۔۔۔ رات گیارہ بجے کے قریب ہم گھر پہنچ گئے تھے میں گیٹ لاک کرنے لگا ۔۔۔ سائقہ اسے روم میں لے کر چلی گئی ۔۔۔ میں روم میں داخل ہوا تو سائقہ نے مہوش کو بکڈ پر لٹایا ہوا تھا اور اس کے کندھوں کو پکڑ کر کہہ رہی تھی ۔۔۔ شاباش بس ایسے سوتی رہنا اور کوئی بات بھی نہ کرنا بڑوں کو اففففف تک نہیں بولتے مہوش اس کے ہاتھ جھٹک کر اٹھتے ہوئے بولی سائقی کیا مسئلہ ہے کیوں تنگ کر رہی ہو ۔۔۔۔ سائقہ ہنستے ہوئی بولی ۔۔۔ میں اس لئے تنگ کر رہی ہوں کہ مانوں کو کھلی کرنے میں تکلیف ہو مجھے مانوں سے بہت بدلے لینے ہیں میں سر جھکائے مسکراتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔مہوش بھی سائقہ کی بات پر ہنستے ہوئے اپنا چہرہ گھٹنوں میں چھپانے لگی سائقہ نے سکول بیگ سے شہد کی بوتل نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔۔۔ یہ پندرہ دن سے ہاسٹل میں پڑی ترس رہی تھی ۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے اشارہ کیا کہ اسے بیگ پر رکھ دو۔۔۔۔ بوتل کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی یہ تو چھوٹی نہیں ہے ؟۔۔۔ میں بولا ۔۔وہ کیسے ۔۔۔؟؟ بولی آج تو چار پیالے ہیں ناں ۔۔۔ میں نے کہا ہاں چاروں بھر جائیں گے ۔۔۔۔ سائقہ نے مہوش کے بوبز پکڑ کر کہا ہاں بھر جائیں گے اس کے پیالے چھوٹے ہیں ۔۔۔۔ مہوش نے غصے سے کہا تم اپنے پیالے بھر لو ۔۔۔ دوبارہ ادھر ہاتھوں نہیں لانا ۔۔۔ سائقہ نے اپنے ہونٹ دانتوں تلے دباتے ہوئے مسکراتے چہرے کے ساتھ بیگ سے موبائل نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولی کیوں ساتھ لانے کو بولا تھا میں اٹھ کر بیڈ پر چلا گیا اور موبائل اس کے ہاتھ سے لیکر اس پر ڈیٹا پیکج کر لیا اور اس کے نمبر پر واٹس ایپ آئی بنا کر ان دونوں کو سمجھانے لگا سائقہ کے اس کی امی کا ایک سادہ کیو موبائل تھا جبکہ مہوش کے پاس اس کے گھر میں موبائل تک رسائی نہیں تھی ۔۔۔ میں نے ان کو واٹس ایپ آڈیو ویڈیو کال اور میسج وغیرہ کے بارے میں سمجھا دیا اور اپنے واٹس ایپ سے ویڈیو کال کرتے ہوئے دوسرے روم میں چلا گیا اور کچھ دیر ان سے باتیں کرکے واپس آ گیا اور ساتھ یوٹیوب پر ان کو گانے اور ڈرامے وغیرہ کے بارے میں سمجھاتا ان کے درمیان آ گیا اور ایک مست گانا لگا کر سائقہ کو کسنگ کرنے لگا اور پھر مہوش کو اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے اسے پیارے کرنے لگا وہ تھوڑی ہچکچائی اور شرم سے سر جھکانے لگی میں نے موبائل ان کو تھما دیا جس پر وہ ایک کے بعد دوسرا گانا لگانے لگیں میں ان کی پیچھے لیٹ کر ان کے جسم میں پیار بھرنے لگا میں نے سائقہ کی قمیض میں ہاتھ ڈالنے لگا جس سے سائقہ نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور مستی بھری آنکھوں سے پیچھے مڑ کر مجھے دیتے ہوئے مسکرانے لگی میں اس کی کمر پر کسنگ کرنے لگا اور اپنا دوسرا ہاتھ مہوش کی قمیض میں ڈالنے لگا اپنی سائیڈ پر میرے ہاتھ کا لمس پا کر مہوش سسکیاں لیتے ہوئے اپنی کہنی سے میرے ہاتھ کو دبانے لگی مہوش نے بظاہر اپنی نظریں موبائل پر جمائیں ہوئی تھی لیکن میرے ہاتھ کے لمس سے وہ ایک دم نشے میں آ گئی تھی اور اس کا جسم لرزنے کے ساتھ اس کی آنکھیں تھوڑی بند ہونے لگی تھی میں نے سائقہ کی قمیض کے اندر اس کی سنگِ مرمر جیسی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے بریزر کی ہک کھول دی اور مہوش کو اپنے بازو میں لپیٹے ہوئے اپنے اوپر گرا لیا اس نے گہری سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ میں اس کے آنکھوں کو چومتے ہوئے اس کے رسیلے گالوں کو ہونٹوں میں بھرتے ہوئے اس کے لب چوسنے لگا ایک منٹ میں ہی سسکیاں لیتی مہوش نے اپنے ہاتھ پیار سے میرے سر پر ٹکا دئیے تھے سائقہ نے اس دوران اپنے کپڑے اتار دئیے تھے اور میرے سامنے آتے ہوئے مست سے انگڑائی لے کر وشششش کے ساتھ میرے اندر تک تیر سے وار کر دیا ۔۔۔ میں کچھ لمحے تک مہوش کے لبوں کو چوستا بھول گیا تھا میں سائقہ کو دیکھتے ہوئے جسم میں مستی بھرنے کے ساتھ مہوش کے بوبز کو قمیض سے اوپر سے ہاتھ بھر کر دبانے لگا مہوش جیسے صدیوں سے ترس رہی تھی بوبز سے چڑھنے والے نشے میں مست مہوش نے سسکی کے ساتھ میرے سر کو پکڑ کر اپنے سینے پر لانے لگی اور ٹوٹتی آواز کے ساتھ جا ن ن ن ۔۔۔۔ امممھھھھھ سائقہ نے اس کے مستی کو دیکھتے ہوئے اس کی ٹانگوں کی طرف گھوم گئی میں مہوش کی قمیض کو اوپر سرکانے لگا اور اس کے لبوں کو چوسنے لگا تھا مہوش بھی ایک لاجواب حسن کی مالک اور مٹھاس سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔ لیکن جس طرح سائقہ میرے اندر رچ بس گئی تھی اس کا جواب نہیں تھا اور مہوش کا حسن سائقہ کے مقابلے میں ایسے تھا جیسے سورج کے سامنا چراغ۔۔۔میں نے مہوش کی قمیض کو اوپر کھینچا اور اس نے اپنا سینہ اوپر اٹھا کر میری مدد کی مہوش نے سکین کلر کا بریزر پہن رکھا تھا جب مہوش اپنی قمیض کو اپنے بازوں سے نکال رہی تھی میں نے اس کے بریزر کے ہک بھی کھول دی مہوش اکھڑتے سانسوں کے ساتھ سائقہ کے جسم کو رشک بھری نظروں سے دیکھا اور بریزر کو اتار کر اپنے بوبز کو اپنے ہاتھوں میں بھرنے لگی میں نے سائقہ کو اچھلتے پیار سے دیکھا اور مہوش کو لیٹا کر اس کہ نپلز کو جیسے منہ میں بھرا اس کی مستی بلند آوازوں میں گونجنے لگی سائقہ نے اس کی شلوار اتار دی تھی میں نے سائقہ کو اپنے بازو میں لپیٹ کر مہوش کی دائیں سائیڈ پر لٹا دیا سائقہ نے اپنے حسن کے بھرپور جلوے سے مہوش کا حسن مانند کر دیا سائقہ کیسی تھی اسے الفاظ میں بتانا ممکن نہیں پھر بھی ۔۔۔ یہ گلاب دیکھ رہے ہو ایسے لب تھے اس کے یہ مکھن دیکھ رہے ہو ایسے گال تھے اس کے ۔۔ یہ جھیل دیکھ رہے ھو ایسی آنکھیں تھی اس کے یہ شہد دیکھ رہے ہو ؟۔ ایسے میٹھی تھی وہ ۔۔۔ یہ سنگِ مرمر دیکھ رہے ہو ؟۔۔ ایسی شفاف تھی وہ ۔۔۔ یہ لہریں دیکھ رہے ہو ۔۔؟؟ یوں مچلتا جسم تھے اس کا ۔۔ سفید گلاب دیکھا ہے کبھی۔؟؟ ایسے کھلتے بوبز تھے اس کے ۔۔۔ یہ صراحی دیکھ رہے ہو ایسا فگر تھا اس کا کبھی دور بارش برساتے کالے بادلوں کو لکیروں کی شکل میں دیکھا۔۔ ؟۔ ایسے سلکی بال تھے اس کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سائقہ اور مہوش کے درمیان بیٹھ گیا اور ان دونوں کے بوبز ہاتھوں میں بھرنے لگا دونوں نے کمر کو بل دے کر اپنے ہپس کو گڈے پر مڑوڑ رہی تھی ۔۔۔ میں نے شہد کی بوتل اٹھا کر شہد کی لکیر سائقہ کے بوبز پر گرانے لگا ۔۔۔ سائقہ مست لہجے میں بولے جا رہی تھی میرے مانوں ں ں ں میں اس کے چھوٹے پنکی نپلز پر شہد کی لکیر گراتا تو ڈہد رک رک کر اس کے چکنے بوبز پر پھیلتا جا رہا تھا ۔۔۔ بہت سا شہد جب اس کے بوز سے بھی موٹی لکیروں کی صورت نیچے بہنے لگا تو میں نے بوتل کو سائیڈ پر رکھ کر سائقہ کے جسم پر پھیلتے شہد کو چاٹنا شروع کر دیا سائقہ کے جسم پر گرتے شہد کو بہت دیر سے حیرت بھری نگاہوں سے دیکھتی مہوش نے میری پھرتی زبان کو دیکھ کر وشششششششششششششش کہا اور اپنے بوبز کو ہاتھوں میں بھر کر اپنے منہ کی ھرف لانے کوشش کرنے لگی تھی ۔۔۔۔ میں نے سائقہ کے جسم کا سارا شہد چاٹ لیا تھا اور بوتل ایک بار پھر اٹھا کر شہد کی لکیر مہوش کے بوبز پر گراتے ہوئے اپنی انگلیوں سے مہوش کی ببلی کی ہونٹ کھول کر تھوڑا سا۔نظارہ کیا ۔۔۔۔ سائقہ کی طرح یہ بھی سیل پیک تھی ۔۔۔ لاجواب ببلی تھی لیکن سائقہ جیسی بھری بھری نہیں تھی مجھے اس کی کپیسٹی کم نظر آ رہی تھی سو میں اسے مذید ترسا کر ببلو کو اس سے ملانا چاہتا تھا ۔۔۔ میں مہوش کے بوبز پر شہد گرا کر اپنی شرٹ اتار گیا اور سائقہ کو دیکھتے ہوئے مہوش کے مٹھاس سے بھرپور بوبز پا جھک گیا سائقہ نے اٹھ کر میری پینٹ اور انڈروئیر کو اتارا اور اپنی بھرے بھرے ہاتھوں سے ببلو کے ڈنڈے اور اس کے نیچے لگی گولیوں کو پکڑ کر ان کو آخری حدوں تک مست کر رہی تھی سائقہ میں اس کی مستی بھری آآآآآ مانوں ں ں ں ں ۔۔۔ افففففف ما۔۔۔۔۔۔۔ ہونہہہ مانوں ں ں ں ۔۔۔سے میرے دل کی تاروں کو چھیڑتی ہوئی شاپر اٹھا کر لیتے ہوئے اس ہے بےبی لوشن کی بوتل نکالی اور ڈھکن اتار کر کارپٹ پر پھینکا اور بہت سا لوشن اپنے پیٹ کے اوپر ناف تک پھیلا دیا اور میرے بازو کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا میں شہد کی آخری لکیریں چاٹ رہا تھا مہوش اپنے جسم کو کمان بنا کر کبھی اپنے بوبز کو اوپر کے آتی تو کبھی اپنی ببلی کو میرے جسم پر رگڑنے لگتی میں نے سائقہ کے جسم پر پڑی لوشن سے اپنی انگلی لپیٹی اور اسے مہوش کی ببلی کی لکیر میں دو بار پھیر اور سیدھا ہوتے سائقہ کی ٹانگوں کے درمیان آنے لگا جیسے ہی مہوش کی نظر میرے اوپر کو اٹھے فل تنے ہوئے ببلو پر پڑی اس کا۔منہ اور آنکھیں کھلی رہ گئیں اور گلے میں جیسے کچھ اٹک گیا ہو وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ببلو کو دیکھتے ہوئے خوفزدہ ہو گئی تھی اس کی کلائی جتنا موٹا اور کافی لمبا ببلو اسے مار گیا ہو جیسے میں نے ببلو کو لوشن میں لپیٹا اور ببلی پر لے جا کر سائقہ کے اوپر لیتے ہوئے ببلو کو آزاد چھوڑ دیا دو ماہ بعد ملاپ ہونے پر ببلو بھی لپک کو اندر جا رہا تھا اور ببلی بھی اسے کھینچ کھینچ کو اپنے میں لبا لب بھرنے لگی تھی ۔۔۔ سائقہ لرزتے جسم کے ساتھ جلدی جلدی مانوں مانوں مانوں کہ رہی تھی اور ببلو کے تہیہ تک اندر جانے کے بعد اس نے مدھم اور لمبی آواز میں میرے ےےےے مانوں ں ں ں کہ کر اپنی باہیں میرے گرد لپیٹ لیں۔۔۔۔ 


جاری ہے



© Dirty Stories. All rights reserved. Distributed by Dirty Stories